MOJ E SUKHAN

میں اسے سوچتا رہا یعنی

غزل

میں اسے سوچتا رہا یعنی
وہ مرا خواب ہے خدا یعنی

ہجر سے ہجر تک تھی یہ ہجرت
وہ ملا یعنی کھو گیا یعنی

گردش مہر و ماہ کا حاصل
یعنی میرا وجود لا یعنی

دل کہاں شہسوار دنیا تھا
سو گرا گر کے مر گیا یعنی

تو مجھے اس کا نام بھول گیا
ہو گیا میں بھی لاپتا یعنی

کام کی بات پوچھتے کیا ہو
کچھ ہوا کچھ نہیں ہوا یعنی

چلتے رہئے تو سوکھ جائے گا
یہ سمندر یہ آبلہ یعنی

یعنی تم سے تو میں ملا ہی نہیں
وہ کوئی اور شخص تھا یعنی

کوئی آواز ٹوٹنے کی نہیں
دل میں اک بات ہے خلا یعنی

اس کو خوش دیکھ کر وہاں بابرؔ
میں بھی خوش تھا اداس تھا یعنی

ادریس بابر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم