MOJ E SUKHAN

میں اپنے دل میں نئی خواہشیں سجائے ہوئے

غزل

میں اپنے دل میں نئی خواہشیں سجائے ہوئے
کھڑا ہوا ہوں ہوا میں قدم جمائے ہوئے

نئے جہاں کی تمنا میں گھر سے نکلا ہوں
ہتھیلیوں پہ نئی مشعلیں جلائے ہوئے

ہوا کے پھول مہکنے لگے مجھے پا کر
میں پہلی بار ہنسا زخم کو چھپائے ہوئے

نہ آندھیاں ہیں نہ طوفاں نہ خون کے سیلاب
ہیں خوشبوؤں میں مناظر سبھی نہائے ہوئے

پگھل گئی ہیں اچانک غموں کی زنجیریں
گرے ہیں دھوپ کے نیزے بدن چرائے ہوئے

دکھا رہی ہے نئی زندگی کے نقش قدم
سکوں کی نیند گلے سے مجھے لگائے ہوئے

چٹخنے والی زمیں دور رہ گئی افضلؔ
ہیں سارے کھیت ستاروں کے لہلہائے ہوئے

افضل منہاس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم