MOJ E SUKHAN

میں اپنے شہر میں اپنا ہی چہرہ کھو بیٹھا

میں اپنے شہر میں اپنا ہی چہرہ کھو بیٹھا
یہ واقعہ جو سنایا تو وہ بھی رو بیٹھا

تمہاری آس میں آنکھوں کو میں بھگو بیٹھا
کہ دل میں یاس کے کانٹے کئی چبھو بیٹھا

متاع حال نہ ماضی کا کوئی سرمایہ
ندی میں وقت کی ہر چیز کو ڈبو بیٹھا

سنہرے وقت کی تحریریں جن میں تھیں محفوظ
میں ان صحیفوں کو اشکوں سے اپنے دھو بیٹھا

میں سنتا رہتا تھا جس آئنے کی سرگوشی
وہ شہر سنگ میں اپنی جلا بھی کھو بیٹھا

کسی ببول کے سائے تلے ملی جو اماں
تو اپنے پاؤں میں کانٹے بھی میں چبھو بیٹھا

وہی رہا ہے بہر طور شادماں نیرؔ
جو اپنے غم میں غم دیگراں سمو بیٹھا

اظہر نئیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم