میں اکثر دل کی بے جا خواہشوں کی زد میں رہتی ہوں
مگر میں خاندانی ہوں سو اپنی حد میں رہتی ہوں
مرے اطراف میں جو لوگ ہیں سب مجھ سے کہتے ہیں
بلند قامت ہوں لیکن پھر بھی اپنے قد میں رہتی ہوں
میں ہوں آدم کی پسلی سے یقینا ہے کجی مجھ میں
الف کی طرح سیدھی ہوں پر اس کے مد میں رہتی ہوں
وجودِ زن سے یہ دنیا سجی ہے اک حقیقت ہے
مگر پھر بھی نہ جانے کیوں؟ میں اس کی رد میں رہتی ہوں
کبھی دنیا کی آرائش رجھا سکتی نہیں مجھ کو
کہ میں اپنے تخیل میں حصارِ جد میں رہتی ہوں
یہ میرا حسن و رعنائی مجھے تکلیف دیتا ہے
جو بد فطرت ہیں میں ان کی نگاہِ بد میں رہتی ہوں
زبر ہو کر ہوئی ہے زیر بس تیرے لیے تشنہ
میں ساکن ہوں بظاہر پھر بھی تیرے شد میں رہتی ہوں
حمیرہ گل تشنہ