MOJ E SUKHAN

میں اکثر سوچتی ہوں زندگی کو کون لکھے گا

غزل

میں اکثر سوچتی ہوں زندگی کو کون لکھے گا
نہ میں لکھوں تو پھر اس بے بسی کو کون لکھے گا

بہت مصروف ہیں اہل جہاں ہرزہ سرائی میں
اب آشوب سخن میں بے حسی کو کون لکھے گا

کئی صدیاں گزاریں منزلوں کے کھوج میں پھرتے
تو پھر میرے سوا اس گمرہی کو کون لکھے گا

ہم اس شہر جفا پیشہ سے کچھ امید کیا رکھیں
یہاں اس ہاؤ ہو میں خامشی کو کون لکھے گا

اسے فرصت نہیں ساحل، سمندر، موج لکھنے سے
پریشاں ہوں مری تشنہ لبی کو کون لکھے گا

حجابؔ اس شہر نا پرساں میں سب جھگڑا انا کا ہے
سرور خود پرستی میں خودی کو کون لکھے گا

حجاب عباسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم