MOJ E SUKHAN

میں ایک خواب ہوں اور بالیقیں پڑا ہوا ہوں

میں ایک خواب ہوں اور بالیقیں پڑا ہوا ہوں
کہیں گیا تو نہیں ہوں وہیں پڑا ہوا ہوں

کوئی بتائے تو شاید سمجھ میں آئے مجھے
پڑا ہوا کہ شاید نہیں پڑا ہوا ہوں

مجھے تلاش تو کر آئنے سے ہٹ کر بھی
ترے جمال میں شاید کہیں پڑا ہوا ہوں

بھٹک نہ جائے جواہر تلاشنے والا
اسے کہو کہ میں زیرِ زمیں پڑا ہوا ہوں

میں بے مثال تھا بالائے خاک بھی مظہر
میں زیرِ خاک بھی کتنا حسیں پڑا ہوا ہوں

مظہر نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم