MOJ E SUKHAN

میں بات کون سے پیرایۂ بیاں میں کروں

غزل

میں بات کون سے پیرایۂ بیاں میں کروں
جو سوچتا ہوں اسے کس زبان میں لکھوں

کتر دئے ہیں زمانے نے پنکھ خوابوں کے
بھرا ہے ساغر حسرت میں آرزوؤں کا خوں

نہیں ہے کشتۂ خوباں کا خوں بہا کوئی
اے اہل شوق نہ کھاؤ فریب حرف فسوں

کبھی ہے چاند کا ہالہ نقاب لالہ کبھی
انیلے رنگ دکھاتی ہے زلف غالیہ گوں

زمام راحلۂ دل خرد کے ہاتھ میں دو
کہ مارتی ہے ہوس اس نواح میں شب خوں

اب اس کو خانہ خرابی کہو کہ معموری
زمیں میں ساتھ خزانے کے دھنس گیا قاروں

بنو تمیم ہو تم میں سلامہ بن جندل
بلا جواز تمہاری ثنا میں کیسے کروں

پرندگان بیاباں کریں وسیلہ جسے
میں اس امین کے خرمن کے خوشہ چینوں میں ہوں

شہید علم بھی ہوں زندۂ محبت بھی
بہ فیض ذوق سلیم و طبیعت موزوں

شریک زمرۂ محنت کشاں ہے شاعر بھی
بہائے صد نفس خونچکاں ہے اک مضموں

اناڑی پن نہ کہو میری سادہ لوحی کو
ہوں نونیاز مگر کہنہ مشق جذب و جنوں

بلائے جبر بھی ہے پائے اختیار بھی ہے
قصوروار ہوں میں یا صدائے کن فیکوں

درائے فرۂ فرہنگ دیکھو رنگ سخن
ابوالکلام نہیں میں ابوالمعانی ہوں

عبدالعزیز خالد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم