MOJ E SUKHAN

میں بند آنکھوں سے کب تلک یہ غبار دیکھوں

غزل

میں بند آنکھوں سے کب تلک یہ غبار دیکھوں
کوئی تو منظر سیاہ دریا کے پار دیکھوں

کبھی وہ عالم کہ اس طرف آنکھ ہی نہ اٹھے
کبھی یہ حالت کہ اس کو دیوانہ وار دیکھوں

یہ کیسا خوں ہے کہ بہہ رہا ہے نہ جم رہا ہے
یہ رنگ دیکھوں کہ دل جگر کا فشار دیکھوں

یہ ساری بے منظری سواد سکوت سے ہے
صدا وہ چمکے تو دھند کے آر پار دیکھوں

ترے سوا بھی ہزار منظر ہیں دیکھنے کو
تجھے نہ دیکھوں تو کیوں ترا انتظار دیکھوں

احمد محفوظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم