MOJ E SUKHAN

میں تری آنکھ کا آنسو ستارہ کر رہا ہوں

میں تری آنکھ کا آنسو ستارہ کر رہا ہوں
جو کام کر نہیں سکتا دوبارہ کر رہا ہوں

ابھی تو لوٹ کے آیا ہوں تری یادوں سے
مگر میں باردگر پھر نظارہ کر رہا ہوں

رموزِ عشق کے آداب سے نہیں واقف
کتاب عشق سے میں استخارہ کر رہا ہوں

عجب ہیں اہلِ زمیں جن کے میں دل وجاں پر
بس حکمرانی پہ اپنی گزرا کر رہا ہوں

وصال و ہجر کے زندان سے نہیں نکلا
وفا پرست ہوں سو استخارہ کر رہا ہوں

سجا ہوں معرفت عشق سے بتاؤں کسے
عدو کی بات پہ اپنا خسارہ کر رہا ہوں

نکل سکا نہ کبھی دل کی دھڑکنوں سے رضا
میں آج بھی ترے دل پر اجارہ کر رہا ہوں

حسن رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم