MOJ E SUKHAN

میں تہی دست محبت میں بھلا کیا دیتا

غزل

میں تہی دست محبت میں بھلا کیا دیتا
تیرے حصے سے مگر تجھ کو زیادہ دیتا

زندگی تو نے بڑی دیر لگا دی ورنہ
میں تجھے ملتا ترے گال پہ بوسہ دیتا

بعض اوقات اگر شعر نہ ہوتا مجھ سے
اس کی آنکھوں کا اشارہ مجھے مصرعہ دیتا

میں زمانے کو بناتا تو زمانے بھر کو
تیری آنکھیں ترا چہرہ ترا لہجہ دیتا

تو ٹھہرتا تو کوئی حل بھی نکل سکتا تھا
ساتھ چلتا نہ ترے مشورہ اچھا دیتا

تم کو لالچ تھی خزانے کی سو ناکام ہوئے
مجھ سے کہتے تو میں اس غار کا نقشہ دیتا

اتنا خوش تھا وہ بچھڑتے ہوئے مجھ سے ورنہ
پاؤں پڑتا میں اسے روکتا سمجھا دیتا

پیٹھ پیچھے سے اگر وار نہ کرتا ساحرؔ
اپنے دشمن کے جنازے کو میں کندھا دیتا

جہانزیب ساحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم