MOJ E SUKHAN

میں تیری آنکھ میں رہ کر حجاب ہو جاؤں

غزل

میں تیری آنکھ میں رہ کر حجاب ہو جاؤں
تو حرف حرف پڑھے وہ کتاب ہو جاؤں

مرے سوا کبھی تجھ کو لبھا سکے نہ کوئی
میں تیرے واسطے وہ انتخاب ہو جاؤں

تو آسمان کی وسعت میں لے کے جائے مجھے
میں تجھ پہ فخر کروں آفتاب ہو جاؤں

تو بوند بوند سے لذت کشید کرتا رہے
مگر نہ پیاس بجھے وہ شراب ہو جاؤں

وہ اپنی نرم سی پوروں سے گر چھوئے مجھ کو
مہک مہک اٹھوں مثل گلاب ہو جاؤں

تمہاری یاد میں چھوڑوں نہ مے کشی طاہرؔ
مجھے ہے جتنا بھی ہونا خراب ہو جاؤں

طاہر حنفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم