MOJ E SUKHAN

میں جانتا ہوں کہ سارے برے نہیں ہوتے

غزل

میں جانتا ہوں کہ سارے برے نہیں ہوتے
مگر یہ سچ ہے کہ سب ایک سے نہیں ہوتے

مرے پروں میں اگر حوصلے نہیں ہوتے
یہ آسماں میرے آگے جھکے نہیں ہوتے

مرے صنم جو مجھے تم ملے نہیں ہوتے
سکون دل سے مرے رابطے نہیں ہوتے

زمین پانی ہوا دیکھ بھلا سب کچھ ہے
نہ جانے کیوں میرے بوٹے ہرے نہیں ہوتے

یہ تیرا قد ہے جو رکھتا ہے اہمیت ورنہ
خوش آمدید کو سارے جھکے نہیں ہوتے

عدالتوں سے جڑے سارے دعوے داروں میں
یہ چغلیاں ہیں سہی فیصلے نہیں ہوتے

جو ہو سکے تو زباں کو ذرا سرل رکھنا
بہت سے نیتا زیادہ پڑھے نہیں ہوتے

مرے خدا کی عنایت اگر نہیں ہوتی
مرے چراغ ہوا میں جلے نہیں ہوتے

تمام عمر کئی لوگ چھوٹے رہتے ہیں
بلندیوں پہ بھی جا کر بڑے نہیں ہوتے

راکیش الفت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم