MOJ E SUKHAN

میں خود نوشت سے گزرا، عذاب سے گزرا

میں خود نوشت سے گزرا، عذاب سے گزرا
بیانِ دشتِ طلاطم کے باب سے گزرا

قلم کی نوک سے مجروح ، آبروئے ورق
ہر ایک لفظ مسلسل عتاب سے گزرا

جہانِ کن سے چلا گردشِ زمیں کی طرف
کہ پہلے خواب سے ، اور پھر سراب سے گزرا

چھپا ہوا ہے جو بس اس کو ڈھونڈنے کے لیے
تمام عمر جہانِ خراب سے گزرا

یہ ماہ و سال پہ موقوف زیست یوں گزری
کہ جیسے آب کہیں آفتاب سے گزرا

یہ کیا کہ پھر سے لیا جائے گا حساب وہاں
تو کیا وجہ تھی۔۔۔! یہاں اضطراب سے گزرا

چلا تھا سایہ ئِ دیوار سے پرے ہوکر
گزر گیا ہوں، مگر آب و تاب سے گزرا

کاشف علی ہاشمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم