MOJ E SUKHAN

میں فرد جرم تیری تیار کر رہا ہوں

غزل

میں فرد جرم تیری تیار کر رہا ہوں
اے آسمان سن لے ہشیار کر رہا ہوں

اک حد بنا رہا ہوں شہر ہوس میں اپنی
در کھولنے کی خاطر دیوار کر رہا ہوں

معلوم ہے نہ ہوگی پوری یہ آرزو بھی
پھر دل کو بے سبب کیوں بیمار کر رہا ہوں

پھولوں بھری یہ شاخیں بانہوں سی لگ رہی ہیں
اب کیا بتاؤں کس کا دیدار کر رہا ہوں

یہ راستے کہ جن پر چلتا رہا ہوں برسوں
آئندگاں کی خاطر ہموار کر رہا ہوں

آسانیوں میں جینا مشکل سا ہو گیا ہے
میں زندگی کو تھوڑا دشوار کر رہا ہوں

سامع بنا لیا ہے راتوں کو میں نے اپنا
غزلیں سنا سنا کے سرشار کر رہا ہوں

عبید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم