MOJ E SUKHAN

میں نعرۂ مستانہ میں شوخئ رندانہ

میں نعرۂ مستانہ میں شوخئ رندانہ
میں تشنہ کہاں جاؤں پی کر بھی کہاں جانا

میں طائر لاہوتی میں جوہر ملکوتی
ناسوتی نے کب مجھ کو اس حال میں پہچانا

میں سوز محبت ہوں میں ایک قیامت ہوں
میں اشک ندامت ہوں میں گوہر یک دانہ

کس یاد کا صحرا ہوں کس چشم کا دریا ہوں
خود طور کا جلوہ ہوں ہے شکل کلیمانہ

میں شمع فروزاں ہوں میں آتش لرزاں ہوں
میں سوزش ہجراں ہوں میں منزل پروانہ

میں حسن مجسم ہوں میں گیسوئے برہم ہوں
میں پھول ہوں شبنم ہوں میں جلوۂ جانانہ

میں واصفؔ بسمل ہوں میں رونق محفل ہوں
اک ٹوٹا ہوا دل ہوں میں شہر میں ویرانہ

واصف علی واصف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم