MOJ E SUKHAN

میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے

میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
پھر بھی لوگوں نے مرا افسانہ بنا رکھا ہے

تیری آنکھوں سے ہی پیمانہ بھرا کرتے ہیں
ہم کو معلوم ہے ، میخانے میں کیا رکھا ہے

گو ترےساتھ رہے پر تجھے مل نہ سکے
جیسے پانی نے کناروں کو جدا رکھا ہے

چاند سے ان کی توجہ کو ہٹانے کیلئے
روشنی ہم نے بھی کی، گھر کو جلا رکھا ہے

ہے بصیرت کی تمنا میرے دیدہِ دل کو
کون کہتا ہے کہ کعبے میں خدا رکھا ہے

وہ حسیں شہر میں کچھ روز تو ٹھہرے گا ابھی
بس یہی سوچ کے گھر اپنا سجا رکھا ہے

میں تصور میں ہی دیدار کیے لیتا ہوں
عکس کو آنکھ کے پردے میں چھپا رکھا ہے


٭٭٭

سید الطاف بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم