MOJ E SUKHAN

میں نے مہندی سے لکھا ہے نام تیرا ہاتھ پر

غزل

میں نے مہندی سے لکھا ہے نام تیرا ہاتھ پر
چاند کو شرما گیا ہے نام تیرا ہاتھ پر

چاند سا تو بھی چمکتا چاند کی اس رات میں
یہ مقدر کی عطا ہے نام تیرا ہاتھ پر

اب مٹا سکتا ہے کوئی تو مٹا کر دیکھ لے
ہم نے ایسا لکھ دیا ہے نام تیرا ہاتھ پر

اور کوئی چھب کوئی منظر بھلا لگتا نہیں
دیکھنا سب سے بھلا ہے نام تیرا ہاتھ پر

اس کو دھندلانے نہیں دینا دعاؔ تازہ سدا
رکھنا دل کا مشغلہ ہے نام تیرا ہاتھ پر

دعا علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم