MOJ E SUKHAN

میں نے کبھی کسی دن آنسو نہ ہو بہایا

میں نے کبھی کسی دن آنسو نہ ہو بہایا
اس زندگی میں میری وه دن کبھی نہ آیا

اس ہجر کی تپش کیا مجھ کو جلا سکے گی
میں غم کی بارشوں میں اک عمر ہوں نہایا

تجھ سے جہاں کے مالک شکوہ کروں تو کس کا
جس سے بھی دل لگایا اس نے مجھے ستایا

گرچہ ہنر تھا مجھ میں قوت تھی اور جوانی
وہ جیت جائے مجھ سےخودکو ہی خود ہرایا

ناموس کھو کے بندا کیسے جیے خدایا
افلاس ایسا مجھ پر طاری نہ ہو خدایا

اشرف کی یہ کہانی اپنی سی لگ رہی ہے
لگتا ہے ماجرا یہ میرا مجھے سنایا

اشرف بابا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم