میں نے کبھی کسی دن آنسو نہ ہو بہایا
اس زندگی میں میری وه دن کبھی نہ آیا
اس ہجر کی تپش کیا مجھ کو جلا سکے گی
میں غم کی بارشوں میں اک عمر ہوں نہایا
تجھ سے جہاں کے مالک شکوہ کروں تو کس کا
جس سے بھی دل لگایا اس نے مجھے ستایا
گرچہ ہنر تھا مجھ میں قوت تھی اور جوانی
وہ جیت جائے مجھ سےخودکو ہی خود ہرایا
ناموس کھو کے بندا کیسے جیے خدایا
افلاس ایسا مجھ پر طاری نہ ہو خدایا
اشرف کی یہ کہانی اپنی سی لگ رہی ہے
لگتا ہے ماجرا یہ میرا مجھے سنایا
اشرف بابا