MOJ E SUKHAN

میں کعبہ دل میں آنکھوں میں مدینہ لے کے جاؤں گی

میں کعبہ دل میں آنکھوں میں مدینہ لے کے جاؤں گی
جو دنیا سے سوا ہے وہ خزینہ لے کے جاؤں گی۔۔

۔۔میں آئ تھی دل۔مضطر میں کتنے وسوسے لے کر۔۔
کہ اب سینے میں دل مثل۔نگینہ لے کے جاؤں گی۔۔

۔۔وہی جو ڈگمگاتا تھا کہ اب ڈوبا۔۔کہ جب ڈوبا۔۔
مدینے سے سر۔ساحل سفینہ لے کے جاؤں گی۔۔

۔۔فقط الفاظ چننا اور لکھنا ہی نہیں کافی۔۔
یہیں سے نعت کہنے کا قرینہ لے کے جاؤں گی۔۔

۔۔وہ دو عالم کی رحمت ہیں۔۔وہی ہیں ساقئ کوثر۔۔
شہہ کوثر سے میں بھی جام و مینا لے کے جاؤں گی۔۔۔

حجاب عباسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم