MOJ E SUKHAN

میں ہلکان بہت ہوتا ہوں

غزل

میں ہلکان بہت ہوتا ہوں
جب انسان بہت ہوتا ہوں

نظم بہت ہوتا ہوں جب جب
بے عنوان بہت ہوتا ہوں

خوش امکانی سے کیا ہوگا
خوش امکان بہت ہوتا ہوں

عجب علالت آ لیتی ہے
جسم سے جان بہت ہوتا ہوں

پھول کھلا لیتا ہوں دل میں
پھر ویران بہت ہوتا ہوں

کم کم پہلے بھی ہوتا تھا
اس دوران بہت ہوتا ہوں

مشکل ہونا کیا مشکل ہے
کیوں آسان بہت ہوتا ہوں

آکاش عرش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم