غزل
میں ہلکان بہت ہوتا ہوں
جب انسان بہت ہوتا ہوں
نظم بہت ہوتا ہوں جب جب
بے عنوان بہت ہوتا ہوں
خوش امکانی سے کیا ہوگا
خوش امکان بہت ہوتا ہوں
عجب علالت آ لیتی ہے
جسم سے جان بہت ہوتا ہوں
پھول کھلا لیتا ہوں دل میں
پھر ویران بہت ہوتا ہوں
کم کم پہلے بھی ہوتا تھا
اس دوران بہت ہوتا ہوں
مشکل ہونا کیا مشکل ہے
کیوں آسان بہت ہوتا ہوں
آکاش عرش