MOJ E SUKHAN

نئی سازش کوئی پھر ہورہی ہے

نئی سازش کوئی پھر ہورہی ہے
جو یہ مکار چپ سادھے ہوئے ہیں

ابھی ڈھونڈا نہیں کوئی بہانہ
ابھی عیار چپ سادھے ہوئے ہیں

بھرم دشمن کا ہم نے ایسا دیکھا
لئے ہتھیار چپ سادھے ہوئے ہیں

کبھی کرتے تھے اظہار وفا جو
وہی اب یار چپ سادھے ہوئے ہیں

دکھاتے تھے کسی کو آئینہ جو
وہی فنکار چپ سادھے ہوئے ہیں

جو اپنے آپ کو کہتے تھے حق گو
وہی حقدار چپ سادھے ہوئے ہیں

زمانے سے نہ سلمیٰ کچھ کہے گی
سبھی دلدار چپ سادھے ہوئے ہیں

سلمیٰ رضا سلمیٰ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم