نظم۔۔
عمر رواں سے کچھ بھی
شکایت نہیں مجھے
لیکن یہ سوچ کر ہی
تھکن ہورہی ہے اب
کیسے شمار ہوں گے
میرے بےشمار خواب
تکیہ کے نیچے خواب چھپاتی تھی رات کو
انبار اسقدر ہے کہ
سونا محال ہے
آنکھوں کا احتجاج
تقاضا یہ مجھ سے ہے
پہلے گنوں وہ خواب
جو تکیہ میں دفن ہیں
لیکن یہ سوچ کر ہی
تھکن ہورہی ہے اب
کیسے شمار ہوں گے
میرے بےشمار خواب
سعدیہ سراج
(نئے خواب کیسے دیکھوں)
Email
Facebook
WhatsApp