MOJ E SUKHAN

نئے کپڑے بدل اور بال بنا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں

غزل

نئے کپڑے بدل اور بال بنا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں
کوئی چھوڑ گیا یہ شہر تو کیا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں

کئی پلکیں ہیں اور پیڑ کئی محفوظ ہے ٹھنڈک جن کی ابھی
کہیں دور نہ جا مت خاک اڑا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں

کہتی ہے یہ شام کی نرم ہوا پھر مہکے گی اس گھر کی فضا
نیا کمرہ سجا نئی شمع جلا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں

کئی پھولوں جیسے لوگ بھی ہیں انہی ایسے ویسے لوگوں میں
تو غیروں کے مت ناز اٹھا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں

بے چین ہے کیوں اے ناصرؔ تو بے حال ہے کس کی خاطر تو
پلکیں تو اٹھا چہرہ تو دکھا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں

صابر ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم