MOJ E SUKHAN

ناتمام خواہش کی

آنکھ کے علاقے میں
دل کی سرحدوں کے پاس
روح کے کنارے پر
جسم کے دفینے سے
چیختی تمنا کی لاش پھر نکالی ہے
نظم ہونے والی ہے
خوش ہے زخم کی تلخی
ہنس رہی ہے ویرانی
مطمئن ہے تنہائی
مسکرا رہی ہے رات
قہقہوں سے کاٹا دن
باگ ڈور خوشیوں کی رنج نے سنبھالی ہے
نظم رونے والی ہے
دور تک نہیں کوئی
میں بھی خود سے روٹھا ہوں
تو خفا ہے پہلے ہی
خوف کے سہارے سے
لمحہ لمحہ گزرے ہے
وحشتوں کی سنگینی
چشم نم کی ویرانی
لے کے چل رہا ہوں میں
آج دل کے جنگل کی رات کتنی کالی ہے
نظم کھونے والی ہے۔۔۔۔
بےشکن سے بستر پر
لطف خیز لمحوں کے
پرسکون دامن میں
شدت ہوس چاہے
ایک گلبدن ایسا
جس کو چھو کے ہلکا سا
من کے خشک جنگل میں
آگ سی بھڑک اٹھے
کس نے کیا یہ خواہش کی
قرب سے بھرا کمرا
بارشوں کے موسم میں
ملجگے اندھیرے کی
مست خیز غفلت میں
ہوش سے رہا ہو کر
کس کے حسن کی لو سے
اپنے من کی تاریکی
کس نے دور کرنی ہے
نرم گرم بانہوں کا کون پھر سوالی ہے
نظم سونے والی ہے

ڈاکٹر عزیز فیصل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم