MOJ E SUKHAN

ناداں کو اپنا دوست بنانا فضول ہے

ناداں کو اپنا دوست بنانا فضول ہے
ہر جائیوں سے دل لگانا فضول ہے

جو سیدھی سادی بات سمجھ کر نہ دے سکے
بے جا پھر اس سے سر کھپانا فضول ہے

کوئی نہیں بجھاتا لگی آگ دل میں جو
پھر دل میں ایسی آگ لگانا فضول ہے

جس کی سرشت میں ہے وفا اک فضول شے
اس سے وفا کی رسم نبھانا فضول ہے

گر ہو یقیں نہ پوری کبھی ہو سکیں گی جو
ان خواہشوں کو دل میں بسانا فضول ہے

ہو جس کو اپنی بات نہ عہد وفا کا پاس
اپنا پھر اس کو دوست بنانا فضول ہے

کیں کوششیں تو لاکھ منانے کی ہم نے پر
روٹھے ہیں ایسے وہ کہ منانا فضول ہے

کوشش جو کر رہی ہو اسے بھولنے کی تم
پھر اشک بھی صبیحہ بہانا فضول ہے

صبیحہ خان صبیحہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم