MOJ E SUKHAN

ناکامئ صد حسرت پارینہ کے ڈر جائیں

ناکامئ صد حسرت پارینہ کے ڈر جائیں
کچھ روز تو آرام سے اپنے بھی گزر جائیں

اے دل زدگاں اب کے بھی اس فصل جنوں میں
پھر بہر خرد نوک سناں کتنے ہی سر جائیں

یہ رشتۂ جاں تار رگ جان کی مانند
ٹوٹے جو کبھی خاک میں ہم خاک بسر جائیں

ہے حرف شناسی کسی آئینے کی مانند
پتھر کوئی پڑ جائے تو سب حرف بکھر جائیں

پروردۂ شب کو ہے کہاں جرأت اظہار
ڈرتے ہیں کہ شانوں سے کہیں سر نہ اتر جائیں

اس قریۂ یخ بستہ میں اے شعلہ صفت آ
جذبات نہ اجسام کی مانند ٹھٹھر جائیں

یہ خرقۂ درویشی ہمیں راس ہے جاویدؔ
دستار و قبا پہن لیں ہم لوگ تو مر جائیں

ظہور الاسلام جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم