MOJ E SUKHAN

ناں یہ چاند ہو گا ناں تارے رہینگے

ناں یہ چاند ہو گا ناں تارے رہینگے
ِیہی لوگ حاکم ہمارے رہینگے

ریاست کے اندر ریاست کے بانی
کہاں آپ کے یا ہمارے رہینگے

سمندر کے اُس پار ہونگے اثاثے
یقینا” یہاں پر خسارے رہینگے

سیاست کی پرچی ہو میرٹ پہ حاوی
تٙو کیسے منظم ادارے رہینگے

انہیں کیا خبر جب بپھرتا ھے دریا
تو آنکھوں سے اوجھل کنارے رہینگے

میسر ھے جب تک رعایا کی چٹنی
یہ باسی پکوڑے کرارے رہینگے

(رحمت اللہ عامر)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم