MOJ E SUKHAN

نجانے کونسی جانب سے بام ودربناتا ہوں

نجانے کونسی جانب سے بام ودربناتا ہوں
گلی ہی بند ہو جاتی ہے جس میں گھر بناتا ہوں

عجب انداز سے تیرا نیا پیکر بناتا ہوں
کبھی شیشہ کبھی پتھر بناتا ہوں

سزا میں تو نے میری انگلیاں ہی کاٹ دیں یارا
بتا ایسے میں تیرا کونسا پیکر بناتا ہوں

مجھے کچھ اس لۓ بھی شوق ہے پودے لگانے کا
بلا کی دھوپ میں چھائوں کی اک چادر بناتا ہوں

ستارے گنتے گنتے جب بھی مجھ کو نید آتی ہے
تھکن کو اوڑھتا ہوں گھاس کا بستر بناتا ہوں

ملک عرفان خانی کیوں تری صر صر مخالف ہے
جنہیں اڑنا نہیں آتا میں ان کے پر بناتا ہوں

ملک عرفان خانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم