ہنسائے گی تو کبھی خوں رلائے گی تم کو
یہ زندگی ہے سمجھ میں نہ آئے گی تم کو
بساطِ کرب پہ کیسے چراغ جلتے ہیں
ہوائے شام سے پوچھو بتائے گی تم کو
حسد سےبچنا کہ اک آگ ہے بھری اس میں
رہِ حیات میں پل پل جلائے گی تم کو
جسے خیال میں لاتے ہوئے بھی ڈرتے ہو
وہ ایک آنچ ہی کُندن بنائے گی تم کو
بنو گے اشک تو شعلہ مزاج محبوبا
فصیلِ چشم سے آخر گرائے گی تم کو
وہ ماں،کہ روتےہوئےجس کو چھوڑآئےامين
اسی کی یاد مسلسل ستائے گی تم کو
امین اڈیرائی