MOJ E SUKHAN

ہنسائے گی تو کبھی خوں رلائے گی تم کو

ہنسائے گی تو کبھی خوں رلائے گی تم کو
یہ زندگی ہے سمجھ میں نہ آئے گی تم کو

بساطِ کرب پہ کیسے چراغ جلتے ہیں
ہوائے شام سے پوچھو بتائے گی تم کو

حسد سےبچنا کہ اک آگ ہے بھری اس میں
رہِ حیات میں پل پل جلائے گی تم کو

جسے خیال میں لاتے ہوئے بھی ڈرتے ہو
وہ ایک آنچ ہی کُندن بنائے گی تم کو

بنو گے اشک تو شعلہ مزاج محبوبا
فصیلِ چشم سے آخر گرائے گی تم کو

وہ ماں،کہ روتےہوئےجس کو چھوڑآئےامين
اسی کی یاد مسلسل ستائے گی تم کو

امین اڈیرائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم