MOJ E SUKHAN

نسیم صبح کیوں اٹھلا رہی ہے

غزل

نسیم صبح کیوں اٹھلا رہی ہے
خدا جانے کہاں سے آ رہی ہے

وہ مل جائیں صبا تو ان سے کہنا
یہ برکھا رت بھی بیتی جا رہی ہے

کسی سے دور ہو جانے کی ساعت
بہت نزدیک آتی جا رہی ہے

یہ کیوں بڑھنے لگی ہے دل کی دھڑکن
ہماری یاد کس کو آ رہی ہے

بہاروں کا پیام آیا ہے شاید
ہوا زنجیر در کھڑکا رہی ہے

وہ جتنی چارہ سازی کر رہے ہیں
خلش کچھ اور بڑھتی رہی ہے

شوق ماہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم