MOJ E SUKHAN

نظر سے دور ہیں دل سے جدا نہ ہم ہیں نہ تم

غزل

نظر سے دور ہیں دل سے جدا نہ ہم ہیں نہ تم
گلہ کریں بھی تو کیا بے وفا نہ ہم ہیں نہ تم

ہم اک ورق پہ تو ہیں دو حروف کی صورت
مگر نصیب کا لکھا ہوا نہ ہم ہیں نہ تم

ہماری زندگی پرچھائیوں کی خاموشی
قریب لاتی ہے جو وہ صدا نہ ہم ہیں نہ تم

ہم ایک ساتھ ہیں جب سے یہ روگ ہیں تب سے
کسی بھی روگ کی لیکن دوا نہ ہم ہیں نہ تم

ہمارے جسم ہیں پانی پہ جیسے تصویریں
بکھرتے رنگوں کے دکھ کا صلہ نہ ہم ہیں نہ تم

دہائیاں جو نہیں دیں ظفرؔ ستم سہہ کر
سمجھ رہی ہے یہ دنیا خفا نہ ہم ہیں نہ تم

صابر ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم