MOJ E SUKHAN

نظر مت بوالہوس پر کر ارے چنچل سنبھال انکھیاں

غزل

نظر مت بوالہوس پر کر ارے چنچل سنبھال انکھیاں
کہ اس بد فعل سوں کھنچیں گی آخر انفعال انکھیاں

جدائی سے ہووے مفرور جاں قالب کے صوبہ سوں
اپس دیدار سوں کرتی ہیں پھر اس کوں بحال انکھیاں

نگاہ گرم گل رو سیں ہوا روشن یو مالی پر
کہ اب سورج نمن نرگس پہ لادیں گی زوال انکھیاں

ہوا معلوم بد کاراں طرف نت سین کرنے سوں
کہ رجوارے میں بستی ہیں سریجن کی جہال انکھیاں

جہاں کے راوتاں سوں غمزہ کے نیزہ کوں چمکا کر
نظر بازی کے میداں بیچ کرتی ہیں قتال انکھیاں

مروت کا اثر دستا نہیں اس شوخ چتون میں
مگر رکھتی ہیں عاشق سوں اپس دل میں ملال انکھیاں

سیہ چشمی ہوئی ظاہر للن کی چشم پوشی میں
چھپاتی ہیں اپس مشتاق سوں اپنا جمال انکھیاں

عبید اللہ خاں مبتلا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم