MOJ E SUKHAN

نظر میں لوچ نہ ہیجان منظروں میں ہے

غزل

نظر میں لوچ نہ ہیجان منظروں میں ہے
عروش صبح ابھی شب کی چادروں میں ہے

نہ سوچ تاجوروں کا مآل کیا ہوگا
یہ دیکھ تیشہ بکف کون پتھروں میں ہے

بھڑک رہی ہیں کناروں کی بستیاں اب تک
بلا کی آگ ہمارے سمندروں میں ہے

نگار خانۂ معنی سے سرسری نہ گزر
لہو کا رنگ بھی دو چار منظروں میں ہے

سکوت سنگ کو آسائش بیاں دے دے
عجب کمال ہنر آئینہ گروں میں ہے

گلی کے موڑ پہ کس نے دیا جلایا تھا
اسی کی روشنی تاریک سے گھروں میں ہے

نگل نہ جائیں اسے بھی یہ کج کلاہ عروجؔ
ذرا سی آن جو باقی سخنوروں میں ہے

عبد الرؤف عروج

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم