نظر کو میری تُو اپنی نظر بنائے جا
مثالِ پردہ ہوں جلوہ نما بنائے جا
ارادہ بیچ کے مرضی خرید لی تیری
میں تیرا ہوگیا اپنا مجھے بنائے جا
میں آنکھ رکھتا ہوں لیکن تجھے نہیں دیکھا
ہٹاکے پردہ نظر کا نظر بنائے جا
بدل ہی جائے میری کائنات کا نقشہ
وہ ایک گھونٹ محبت بھرا پلائے جا
نہیں ہے کوئی بھی آگاہ جس حقیقت سے
چھپا ہے جیسے تُو مجھ کو یہاں چھپائے جا
یہ ان کے حسن پہ حُسنِ نقاب کیا کہنا
جمالِ احسنِ تقویم سب دکھائے جا
سخی کی ایک ہی خواہش ہے کاش تُو سن لے
میں تجھ میں گم رہوں ایسا ذرا بنائے جا
سخی سرمست