MOJ E SUKHAN

نظر ہدف پہ رکھی چل دیے سہارے بغیر

نظر ہدف پہ رکھی چل دیے سہارے بغیر
خود اپنی راہ نکالی ہے چاند تارے بغیر

میں اپنے شہر میں اس گوشے کی تلاش میں ہوں
جہاں میں زندہ رہوں پر کسی کو مارے بغیر

سنو یہ حکم نیا حاکمان وقت کا ہے
نہ گھر سے نکلے کوئی اب نظر اتارے بغیر

کچھ اس طرح سے ہیں آسیب کی گرفت میں ہم
ابھرنے پاتے نہیں ہم کبھی ابھارے بغیر

ہم اپنے دور کی ہر داستاں میں زندہ ہیں
کوئی بھی قصہ مکمل نہیں ہمارے بغیر

عجب مزاج محبت کی داستان کا ہے
کہ لازوال یہ ہوتی نہیں ہے ہارے بغیر

یہ چاند تارے ، یہ سورج ، ہوا یہ روزو شب
یہ سب ہمارے لیے ہیں مگر ہمارے بغیر

نہ یہ رکی ہے کبھی اور نہ رکنے پائے گی
حیات چلتی رہے گی قمر تمہارے بغیر

اقبال قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم