نظم: "سرخ آنکھوں سے دیکھے گئے خواب”
سرخ آنکھوں سے دیکھے گئے خواب کی
سننے والو کہو، کوئی تعبیر ہے؟
ایک گھر میں بنیں ان گنت سرحدیں
ایک زنداں میں گونجی کئی حسرتیں
ایک تالہ لبوں پہ لگائے ہوئے
ہاتھ کاٹے ہوئے، سر جھکائے ہوئے
منطقوں کے نشاں سب مٹائے ہوئے
اور تاریخ اپنی بھلائے ہوئے
مصلحت کا لبادہ چڑھائے ہوئے
ایک دوجے سے نظریں چرائے ہوئے
اور سینے کی جلتی ہوئی آگ میں
اک تلاطم کا شعلہ چھپائے ہوئے
شور کرنے لگیں پاوں کی بیڑیاں
ایک قیدی نے لیں جب ذرا کروٹیں
توڑتی دم، ابھرتی، ہوئی وحشتیں !
سرخ آنکھوں سے دیکھے گئے خواب کی۔۔۔
ہے شکستہ دلی، پھیلتی رات ہے
اور فرقوں، زبانوں کی بہتات ہے
کھوئی رنگوں میں نسلوں میں ہر ذات ہے
اور انسانیت کو ہوئی مات ہے
اس خرابے میں شمع جلائے ہوئے
سرکشی کے ہیں پرچم اٹھائے ہوئے
حوصلوں سے سروں کو سجائے ہوئے
روحِ ملت سے خود کو جگائے ہوئے
ہر عداوت کو دل سے مٹائے ہوئے
اپنی منزل کا رستہ بنائے ہوئے
عہدِ نو کے ہیں متوالے آئے ہوئے
لب کی جُنبش سے توڑی گئیں بیڑیاں
اور زنداں میں کھولی گئیں کھڑکیاں!
سرخ آنکھوں سے دیکھے گئے خواب کی ۔۔۔۔
پھر حسیں کچھ مناظر سجائے گئے
اندھی آنکھوں سے دیکھے دکھائے گئے
گونگی آواز میں پھر وہ گائے گئے
جاکے بہروں کی بستی سنائے گئے!
آنکھیں بے نور تھیں، چہرے مسرور تھے
عقل ماؤف تھی، لہجے پر شور تھے
خواب در خواب ہمت بڑھانے لگے
کچھ امنگیں نئی پھر جگانے لگے
کھڑکیاں بند کیں جو بھی کھلنے لگیں
بولیاں ایسے خوابوں کی لگنے لگیں!
سرخ آنکھوں سے دیکھے گئے خواب کی ۔۔۔۔
خواب کنکر سے آنکھوں میں چبھنے لگے
وہ جو افکار تھے جرم بننے لگے
توڑ ڈالے قلم، ہاتھ کاٹے گئے
سچ کے نام و نشاں سب مٹائے گئے
پھر محلات اپنے بنائے گئے
اور اسیروں سے زنداں سجائے گئے
کاٹ کر پھر زبانیں بھی پھینکیں گئیں
اور قدموں میں زنجیریں ڈالیں گئیں!
خواب روندے گئے حق کے الزام پر
حق کو روندا گیا خواب کے نام پر
خواب کے نام جس کی یہ تعبیر تھی؟
سرخ آنکھوں سے دیکھے گئے خواب کی؟!
روحِ ملت کا وہ جو عمل دار ہے
گرد قیدی کے اونچی سی دیوار ہے
آج منصور پھر اک سرِ دار ہے
صبحِ بیدار ہے، صبحِ بیدار ہے!!
سرخ آنکھوں سے دیکھے گئے خواب کی!!
سرخ آنکھوں سے دیکھے گئے خو
حمیرہ گل تشنہ