MOJ E SUKHAN

نقاب بزم تصور اٹھائی جاتی ہے

غزل

نقاب بزم تصور اٹھائی جاتی ہے
شکست خوردوں کی ہمت بڑھائی جاتی ہے

بھٹکنے لگتا ہے راہ وفا سے جب عالم
حدیث عشق ہماری سنائی جاتی ہے

متاع ہوش و خرد بے بہا سہی لیکن
در حبیب پہ یہ بھی لٹائی جاتی ہے

نظر سے ہوتی ہے لطف و کرم کی بارش بھی
نظر سے برق تپاں بھی گرائی جاتی ہے

وفور شوق کی دیکھو تو مصلحت کوشی
جنوں کی بات خرد سے چھپائی جاتی ہے

کس اعتماد سے آغاز‌ دور الفت میں
خیال و خواب کی دنیا بسائی جاتی ہے

فضائے روح پہ تاریکیاں مسلط ہیں
حرم میں شمع عقیدت جلائی جاتی ہے

دکھا دکھا کے مآل جنوں کی فتنہ گری
بشر کو رسم مروت سکھائی جاتی ہے

متاع عشق و محبت نگاہ عالم سے
کس احتیاط سے فارغؔ چھپائی جاتی ہے

لکشمی نارائن فارغ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم