MOJ E SUKHAN

نقاب نوچ سکا گر منافقین کے میں

نقاب نوچ سکا گر منافقین کے میں
سپولے مار ہی دوں گا یہ آستین کے میں

تمہاری بے رخی مجھ سے سہی نہیں جاتی
وگرنہ طنز بھی سہتا ہوں حاسدین کے میں

وہ اختلاف کا حق جو مجھے نہیں دیتے
کبھی قصیدے نہ لکھوں گا حاکمین کے میں

جو ہو سکے مری آنکھیں کسی کو دے دینا
یہ بات کان میں کہہ دوں گا جانشین کے میں

مرے خلوص میں پھر بھی کمی نہیں آتی
ارادے بھانپ تو لیتا ہوں مطلبین کے میں

میں چاہتا ہوں کسی روز آسماں سے ملوں
تمام دکھڑے سناؤں اُسے زمین کے میں

یقين پختہ ہے توحید میں مرا ارشد
کھٹکتا ذہن میں رہتا ہوں مشرکین کے میں

ارشد محمود ارشد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم