نقاب نوچ سکا گر منافقین کے میں
سپولے مار ہی دوں گا یہ آستین کے میں
تمہاری بے رخی مجھ سے سہی نہیں جاتی
وگرنہ طنز بھی سہتا ہوں حاسدین کے میں
وہ اختلاف کا حق جو مجھے نہیں دیتے
کبھی قصیدے نہ لکھوں گا حاکمین کے میں
جو ہو سکے مری آنکھیں کسی کو دے دینا
یہ بات کان میں کہہ دوں گا جانشین کے میں
مرے خلوص میں پھر بھی کمی نہیں آتی
ارادے بھانپ تو لیتا ہوں مطلبین کے میں
میں چاہتا ہوں کسی روز آسماں سے ملوں
تمام دکھڑے سناؤں اُسے زمین کے میں
یقين پختہ ہے توحید میں مرا ارشد
کھٹکتا ذہن میں رہتا ہوں مشرکین کے میں
ارشد محمود ارشد