MOJ E SUKHAN

نقش پا جب ڈھونڈھتی ہوں میں تمہارا ریت پر

غزل

نقش پا جب ڈھونڈھتی ہوں میں تمہارا ریت پر
یاد کی کچھ سیپیاں ہیں اب سہارا ریت پر

جاں ہماری بچ گئی ہے موسموں کے خوف سے
جاتی رت کے ہم مسافر گھر ہمارا ریت پر

ساحل ارماں سے اٹھی جب بھی موج بے اماں
بیٹھ کر میں دیکھتی ہوں یہ نظارہ ریت پر

تو الجھ کے رہ گیا ہے بندھنوں کے جال میں
آنسوؤں کے تار ٹوٹے ہے اشارہ ریت پر

حسرت تعمیر کی اب دل میں خواہش ہی نہیں
کس قدر ویراں کھنڈر ہے گھر ہمارا ریت پر

تتلیوں کو روک لو جانے نہ دو باد صبا
اب بہارؔ بے خزاں کا ہے گزارا ریت پر

بہار النساء بہار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم