نقلِ وطن کے بعد انہی حالات میں رہے
ہم عمر بھر قدیم روایات میں رہے
سوچا نہیں کسی نے قبیلے کے واسطے
مصروف لوگ اپنے مفادات میں رہے
انسان کی خرد کی ترقی کے باوجود
پوشیدہ راز ارض و سماوات میں رہے
پھیلائے پاؤں اتنے ہی چادر تھی جس قدر
ہم مفلس و غریب تھے اوقات میں رہے
ڈوبے جو اپنے آپ میں ابھرے نہیں ہیں پھر
طوفاں نہ کیسے کیسے نہاں ذات میں رہے
رجب چودھری