MOJ E SUKHAN

نقل مکانی کرتے کرتے سایہ بھی تھک جاتا ہے

نقل مکانی کرتے کرتے سایہ بھی تھک جاتا ہے
چہرہ پڑھتے پڑھتے مرا رستہ بھی تھک جاتا ہے

تشنہ خواب کو زندہ رکھنا مرے بس کی بات نہیں
آنکھوں میں کچھ خواب سجا کر چہرہ بھی تھک جاتا ہے

عشق کی شدت کم ہو تو میں پیاس بجھاؤں یادوں سے
پانی پیتے پیتے مرا سایہ بھی تھک جاتا ہے

ڈوبنےلگتا ہے منظر جب آنکھ کے ساحل پر اکثر
بہتے بہتے آنکھ کا مری دریا بھی تھک جاتا ہے

یادوں کا کشکول اٹھائے ہجر سے امید لگائے
گمگشتہ چہرے کے پیچھے چہرہ بھی تھک جاتا ہے

تیلی،پھول،سمندر،سپنے کچھ ادھورے نقش رضا
کاغذ پر تصویر بنا کر بچہ بھی تھک جاتا ہے

حسن رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم