MOJ E SUKHAN

نوائے ساز بنتا جا رہا ہوں

غزل

نوائے ساز بنتا جا رہا ہوں
بس اک آواز بنتا جا رہا ہوں

رفیق اب کوئی بھی میرا نہیں ہے
میں خود دم ساز بنتا جا رہا ہوں

زمانہ جو بھی کروٹ لے رہا ہو
وہی انداز بنتا جا رہا ہوں

مزاج وقت کو سمجھا ہے جب سے
زمانہ ساز بنتا جا رہا ہوں

میں اپنی ذات میں گم ہو گیا ہوں
معما راز بنتا جا رہا ہوں

جو بال و پر سب اپنے کھو چکا ہو
میں ایسا باز بنتا جا رہا ہوں

خدا نے جب خلیفہ کہہ دیا تو
میں اس کا ناز بنتا جا رہا ہوں

کرامتؔ ہوں یہی کچھ کم نہیں ہے
کرامت ساز بنتا جا رہا ہوں

کرامت غوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم