MOJ E SUKHAN

نومید کرے دل کو نہ منزل کا پتا دے

نومید کرے دل کو نہ منزل کا پتا دے
اے رہ گزر عشق ترے کیا ہیں ارادے

ہر رات گزرتا ہے کوئی دل کی گلی سے
اوڑھے ہوئے یادوں کے پر اسرار لبادے

بن جاتا ہوں سر تا بہ قدم دست تمنا
ڈھل جاتے ہیں اشکوں میں مگر شوق ارادے

اس چشم فسوں گر میں نظر آتی ہے اکثر
اک آتش خاموش کہ جو دل کو جلا دے

آزردۂ الفت کو غم زندگی جیسے
تپتے ہوئے جنگل میں کوئی آگ لگا دے

یادوں کے مہ و مہر تمناؤں کے بادل
کیا کچھ نہ وہ سوغات سر دشت وفا دے

یاد آتی ہے اس حسن کی یوں جعفریؔ جیسے
تنہائی کے غاروں سے کوئی خود کو صدا دے

فضیل جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم