MOJ E SUKHAN

نوید وصل یار آئے نہ آئے

غزل

نوید وصل یار آئے نہ آئے
برابر ہے بہار آئے نہ آئے

تجھے کرنا ہے جو کچھ آج کر لے
کہ پھر یہ روزگار آئے نہ آئے

کئے جا درد دل اے نامرادی
کسی کو اعتبار آئے نہ آئے

کوئی پرساں نہ ہو جب حال بد کا
تمنا سوگوار آئے نہ آئے

جو وہ بالفرض ہو پرسش پہ مائل
دل بسمل قرار آئے نہ آئے

ستم سے جب تلافی ہو ستم کی
تمہیں کہہ دو کہ پیار آئے نہ آئے

اثرؔ ہے اور لذت بے خودی کی
وہ جان انتظار آئے نہ آئے

اثر لکھنؤئ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم