MOJ E SUKHAN

نکل سکتی تھی صورت کوئی غم کی

نکل سکتی تھی صورت کوئی غم کی
مگر کوشش ہی ہم نے کم سے کم کی

طبیعت میں تھی درویشی سو ہم نے
کسی کے سامنے گردن نہ خم کی

بہت سے نامساعد دور آئے
مگر قائم رکھی حرمت قلم کی

اُسے ہم اپنی جاں کے مول لیتے
مگر اُس شخص نے قیمت نہ کم کی

ہمارا اپنا دامن مختصر تھا
شکایت کیا کریں اہلِ کرم کی

قسم کھائی ہے تو قائم بھی رہیے
قسم ہے آپ کو اپنی قسم کی

فقط ہجرت کا قصہ تو نہیں ہے
نئی تاریخ بھی ہم نے رقم کی

ناز مظفر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم