MOJ E SUKHAN

نگاہ شوق میں سودائے جستجو کیا ہے

غزل

نگاہ شوق میں سودائے جستجو کیا ہے
دل شکستہ میں اب اور آرزو کیا ہے

نہیں ہے شرط کوئی ذوق مے کشی کے لیے
نگاہ رند میں مے خانہ کیا سبو کیا ہے

بہار شرط ہے گلشن میں زندگی کے لیے
گلوں کے نام پہ تفریق رنگ و بو کیا ہے

پیام امن و محبت جو لے کے آئے تھے
انہیں سے پوچھو یہ ہر سمت ہاؤ ہو کیا ہے

عجیب آپ کا اعجاز وضع داری ہے
ہر ایک بات میں کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

نگہ میں بلبل و گلچیں کی ہے وقار ابھی
وگرنہ پھولوں کی گلشن میں آبرو کیا ہے

نہ کوئی شوق نہ حسرت نہ جستجو نہ خلش
بساط رقص پہ بسمل کی آرزو کیا ہے

بسمل اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم