MOJ E SUKHAN

نگاہ مست ساقی کا سلام آیا تو کیا ہوگا

غزل

نگاہ مست ساقی کا سلام آیا تو کیا ہوگا
اگر پھر ترک توبہ کا پیام آیا تو کیا ہوگا

حرم والے تو پوچھیں گے بتا تو کس کا بندہ ہے
خدا سے پہلے لب پر ان کا نام آیا تو کیا ہوگا

مجھے منظور ان سے میں نہ بولوں گا مگر ناصح
اگر ان کی نگاہوں کا سلام آیا تو کیا ہوگا

چلا ہے آدمی تسخیر مہر و ماہ کی خاطر
مگر صیاد ہی خود زیر دام آیا تو کیا ہوگا

مجھے ترک طلب منظور لیکن یہ تو بتلا دو
کوئی خود ہی لیے ہاتھوں میں جام آیا تو کیا ہوگا

محبت کے لئے ترک تعلق ہی ضروری ہو
محبت میں اگر ایسا مقام آیا تو کیا ہوگا

جہاں کچھ خاص لوگوں پر نگاہ لطف ہے درشنؔ
اگر اس بزم میں دور عوام آیا تو کیا ہوگا

درشن سنگھ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم