MOJ E SUKHAN

نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانا Nahi asan tark ishq karna dil se ghum jana

نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانا
بہت دشوار ہے چڑھتے ہوئے طوفاں کا تھم جانا

خبر کیا تھی ستم کی پردہ داری یوں بھی ہوتی ہے
بہت نادم ہوں جب سے مقصد جوش کرم جانا

لحاظ وضع داری میں کبھی ممکن نہ ہو شاید
تمہارا دو قدم آنا ہمارا دو قدم جانا

ہمیں انداز رندانہ کبھی گرنے نہیں دیتے
جو ساغر سامنے آیا اسی کو جام جم جانا

مرا ہر شعر اخترؔ اک پیام زندگی نکلا
مجھے دنیا نے آخر مالک لوح قلم جانا

اختر انصاری اکبر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم