MOJ E SUKHAN

نہیں آساں کسی کے واسطے تخمینہ میرا

نہیں آساں کسی کے واسطے تخمینہ میرا
مقرر ہے دیار غیب سے روزینہ میرا

دم رخصت اگر میں حوصلے سے کام لیتا
پلٹ کر دیکھ سکتا تھا اسے آئینہ میرا

ہدف بن پائیں گی آنکھیں نہ میرے دشمنوں کی
مقابل ہے خدنگ خواب کے اب سینہ میرا

پڑا رہتا ہوں کنج عافیت میں سر چھپا کر
گزر جاتا ہے یوں ہی ثبت اور آدینہ میرا

بڑھاپا چھا رہا ہے میرے ہر جذبے پہ لیکن
جواں ہوتا چلا جاتا ہے پھر بھی کینہ میرا

بدل سکتا تھا میرے شہر کا آہنگ ساجدؔ
اگر ترتیب پا سکتا کبھی سازینہ میرا

غلام حسین ساجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم