MOJ E SUKHAN

نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا

غزل

نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا
نہ بھر سکا کوئی اس کو خلا ہی ایسا تھا

وہ مجھ میں رہ کے مجھے کاٹتا رہا پل پل
زباں پہ آ نہ سکا ماجرا ہی ایسا تھا

نظر نہ آئی کہیں دور دور تک کوئی موج
میں غرق ہو گیا طوفاں اٹھا ہی ایسا تھا

نہ آیا لطف کسی اور غم کو جھیلنے میں
غم حیات ترا ذائقہ ہی ایسا تھا

کھلے تو لب مگر الفاظ دونوں سمت نہ تھے
مکالمہ نہ ہوا مرحلہ ہی ایسا تھا

اب اس کا رنج بھی کیا کیوں لہولہان ہیں پاؤں
چلے تھے جس پہ ظفرؔ راستہ ہی ایسا تھا

ظفر گورکھ پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم